بیلتھنگڈی 5؍نومبر (ایس او نیوز) بیلتھنگڈی تعلقہ کے شیشیلانامی گاؤں میں موجود ایک قدیم اور خستہ حال بسدی(جین مندر) میں کچھ اجنبی افراد کی طرف سے خزانے کی تلاش میں کھدائی کیے جانے اور وہاں پر جادو ٹونا انجام دینے والی علامات چھوڑجانے کی بات سامنے آئی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ شیشیلا گاؤں کی یہ قدیم بسدی یہاں کے باشندوں کے لئے بہت ہی مقد س مقام ہے اور اسے’ مستیہ تیرتھا‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مقامی لوگوں نے دیکھا کہ کچھ اجنبی افراد دوچار دنوں سے اس بسدی کے اطراف گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو ان پر شک ہواتو انہیں روک کر تفتیش کی گئی اس پر اجنبیوں نے بتایا کہ وہ قریبی ندی میں مچھلی کا شکار کرنے کے لئے آئے ہیں۔ لیکن مقامی لوگوں کو ان کے جواب سے اطمینان نہیں ہواتو انہوں نے رات کے وقت بسدی کے اندر جاکر معائنہ کیا۔ تب پتہ چلا کہ ایک مقام پر پتھر کے سلیب ہٹاکر زمین کی کھدائی گئی ہے اور اس کے اطراف ناریل، لیموں، مرچی، سیندور اور کچھ پھل وغیرہ پڑے ہوئے تھے جو اس بات کا اشارہ کررہے تھے کہ وہاں خزانے کی تلاش میں جادو ٹونے کا عمل کیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں نے دھرمستھلا پولیس کو اس بات کی اطلاع دی تو آدھی رات کو پولیس نے جائے وقوع پر پہنچ کر معائنہ کیا۔ اس دوران میں اجنبی شرپسند اس علاقے سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن پتہ چلا ہے کہ شرپسندوں کی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر پولیس کو معلوم ہوا ہے اور اس کی بنیاد پر تحقیقات کرتے ہوئے جلد ہی ملزمین کو گرفتار کرنے کی امید جتائی گئی ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ مقامی لوگوں نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے کہ ’مستیہ تیرتھا‘ کے اس علاقے میں سرکاری طورپر مچھلیوں کا شکار ممنوع قرار دئے جانے کے باوجود یہاں مچھلی پکڑنے کے لئے آنے والے اجنبیوں کی تعداد روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔